عدت کے بعض مسائل

    (۱) براہ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات قرآن وسنت کی روشنی میں دے کر ممنون فرمائیں۔

(۱)      ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین سال تک ترک تعلق کے بعد طلاق مغلظہ دے دی۔ ایسی صورت میں جب کہ حمل کا شبہ باقی نہیں رہا مطلقہ پرنکاح ثانی سے قبل عدت واجب ہے یا نہیں ؟

(۲)     کن صورتوں میں مطلقہ عورت بغیر عدت گزارے عقدثانی کرسکتی ہے؟

(۳)     کیا عدت کامقصد صرف مطلقہ یا بیوہ کے حمل یا عدم حمل کو معلوم کرنا ہے؟

جواب

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سوالات کے جوابات سے پہلے عدت کے بارے میں چند بنیادی مسائل بتادیے جائیں۔

عدت کی تعریف فقہا نے مختلف الفاظ وعبارات سے کی ہے۔ کیوں کہ عدت کی کوئی ایسی تعریف جو اس کی تمام صورتوں کو جامع ہو، مشکل ہے۔ تعارف کے لیے مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ شرعی اصطلاح میں، دوسرے نکاح کی اس مدت انتظار کو جو عورت کے لیے مقرر کی گئی ہے،عدت کہتے ہیں۔ عدت کے احکام اصلاً قرآن مجید میں نازل کیے گئے ہیں۔ انھیں احکام کو سامنے رکھ کر فقہا نے عدت کے تفصیلی احکام مرتب کیے ہیں۔

عدت کی تین قسمیں ہیں  حیض، مہینے اوروضع حمل۔ یعنی عدت کا شمار یا تو حیض سے کیاجائے گا یا مہینوں سے یا بچہ پیدا ہوجانے سے عدت ختم ہوگی۔ عدت گزارنا عورت پردوصورتوں میں لازم ہے۔ ایک یہ کہ شوہر نے طلاق دے دی ہو، اس کو عدت طلاق کہتے ہیں۔ دوسری یہ کہ شوہر کی وفات ہوگئی ہو، اس کو عدت وفات کہتے ہیں۔ ان مسائل واحکام کابیان قرآن مجید میں ہے۔ میں پہلے عدت طلاق بیان کرتاہوں۔

(الف) اگر مطلقہ وہ عورت ہے جس کو حیض آتے ہیں تو اس کی عدت پورے تین حیض گزرجانا ہے۔ خواہ تین حیض تین مہینے میں گزریں یا اس سے زیادہ مدت میں۔ یہ حکم سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۲۸ میں ہے۔ میں عدت کے مسئلے سے متعلق حصے کا ترجمہ پیش کررہاہوں۔

’’جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحم میں جوکچھ خلق فرمایا ہوا سے چھپائیں، انھیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے اگروہ اللہ اور روزآخر پر ایمان رکھتی ہوں۔ ‘‘

قرآن مجید کی دوسری آیتوں اور دیگر دلائل سے یہ ثابت ہے کہ اس آیت میں ان مطلقہ عورتوں کی عدت بیان کی گئی ہے جن سے شوہر مباشرت (جماع) کرچکا ہو او رانھیں حیض آتا ہو۔ اس آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ عدت کا شمار طلاق واقع ہونے کے بعد کیاجائےگا۔ کیوں کہ کوئی عورت مطلقہ اسی وقت  ہوتی ہے جب اس پر طلاق واقع ہوگئی ہو۔ اس آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ پورے تین حیض گزرجانے چاہییں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ہو تو اس حیض کا شمار عدت میں نہیں ہوگا بلکہ اس حیض کے بعد جب تین حیض گزرجائیں گے تب عدت ختم ہوگی۔

سورۂ طلاق کی پہلی آیت میں عدت کو ٹھیک ٹھیک شمار کرنے کا حکم دیاگیاہے۔

(ب) اگر مطلقہ وہ عورت ہے جسے حیض نہیں آتے، خواہ کم سنی کی وجہ سے یا سن ایاس یعنی بڑھاپے کی وجہ سے تو اس کی عدت تین قمری مہینے گزرجانا ہے۔ تین قمری مہینے گزرجائیں گے تو عدت ختم ہوگی۔ اس کا حکم سورۃ الطلاق کی آیت ۴میں ہے

’’اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہوتو (تمہیں معلوم ہوکہ ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم ان کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔‘‘

کم سنی کی وجہ سے حیض نہ آنا تو عام بات ہے۔ اسی طرح بڑھاپا کی وجہ سے حیض بند ہو جانا بھی عام بات ہے۔ ان دونوں کا حکم صراحتاً اس آیت میں بیان کیاگیا ہے۔ لیکن کبھی سن بلوغ تک پہنچ جانے کے باوجود حیض نہیں آتا۔ فرض کیجیے کہ پندرہ سال کی لڑکی کو ابھی حیض کا خون آیا ہی نہیں اور اسے مباشرت کے بعد طلاق دے دی گئی ہو تو اس کا حکم بھی یہی ہے۔ یعنی اس کی عدت بھی تین مہینے ہے۔

(ج) اگرمطلقہ کوحمل ہوتو مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے یعنی بچہ پیداہوتے ہی اس کی عدت ختم ہوجائے گی۔ کبھی ایساہوسکتا ہے کہ اس کی مدت تین چار مہینے سے بھی بڑھ جائے اور کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ دوسرے ہی دن عدت ختم ہوجائے۔ یہ حکم بھی سورۃ الطلاق کی آیت۴ میں بیان کیاگیاہے’’ اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے۔‘‘

(د) عدت وفات، حمل نہ ہونے کی صورت چار ماہ اور دس دن ہے۔ہرایسی عورت کا جس کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہو، حکم یہی ہے۔ خواہ وہ کم سن لڑکی ہو، جوان ہو یا بوڑھی ہو اور شوہر نے اس سے مباشرت کی ہو یا نہ کی ہو۔

یہ حکم سورۃ البقرۃ کی آیت۲۳۴میں ہے

’’تم میں جو لوگ مرجائیں ان کے پیچھے اگر ان کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں۔ پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو انھیں اختیار ہے، اپنی ذات کے معاملہ میں معروف طریقے سےجو چاہیں کریں۔ تم پراس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے۔‘‘

(ہ) جس عورت کے شوہر کی وفات اس حال میں ہوئی ہو کہ وہ حاملہ ہے تواس عورت کی عدت وضع حمل ہے۔ یہ حکم سورۃ الطلاق کی آیت ۴ میں اوپر گزرچکا ہے۔ اس آیت کاحکم مطلقہ پربھی عائد ہوتا ہے اور اس عورت پر بھی جس کے شوہر کی وفات ہوگئی ہو۔

اب میں آپ کے سوالات کے جوابات دیتاہوں 

(۱) تین سال ترک تعلق کے بعد جس عورت کو طلاق مغلظہ دی گئی اس کو طلاق کے بعد عدت گزارنا لازم ہے۔ اس کے بغیر وہ عقدثانی نہیں کرسکتی۔

(۲) ایک صورت ایسی ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ یہ کہ شوہر نے نکاح کے بعد خلوت صحیحہ اور مباشرت سے پہلے ہی طلاق دے دی ہو۔ اس عورت پر عدت واجب نہیں ہے۔ وہ طلاق کے بعد فوراً دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ یہ حکم سورۃ الاحزاب کی آیت ۴۹ میں ہے

’’اے لوگو جوایمان لائے ہو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو توتمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کرسکو۔‘‘

’ہاتھ لگانے‘ سے مراد عورت سے مباشرت (جماع) کرنا ہے۔

(۳) عدت کا مقصدصرف حمل یا عدم حمل کامعلوم کرنا نہیں ہے۔ البتہ یہ بھی اس کا ایک مقصد ہے۔ دراصل عدت، شریعت کا ایک حکم ہے جو مطلقہ اوراس عورت پرعائد ہوتا ہے جس کے شوہر کی وفات ہوگئی ہو۔ اور یہ اتنا تاکیدی حکم ہے کہ عدت کے درمیان نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ عدت کے درمیان عورت سے نکاح کی صراحتاً گفتگو کرنا بھی ممنوع ہے۔ چناں چہ اس کا تفصیلی حکم سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۳۵ میں موجود ہے۔

’’زمانہ عدت میں خواہ تم ان عورتوں سے منگنی کاارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کردو خواہ اپنے دل میں چھپائے رکھو، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں، اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی۔ مگر دیکھو خفیہ عہدوپیمان ان سے نہ کرنا۔ کوئی بات کرنی ہے تو معروف طریقے سے کرواور عقد نکاح باندھنے کافیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بردبار ہے۔ (چھوٹی چھوٹی باتوں سے) درگزر فرماتاہے۔‘‘

چوں کہ عدت کامقصد صرف یہ جاننا نہیں ہے کہ عورت کو حمل ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طلاق کی عدت ہویا وفات کی، اس لڑکی پربھی واجب ہے جسے ابھی حیض آیا ہی نہیں، یعنی کم سن ہے۔ اسی طرح اس بوڑھی عورت پر بھی یہ دونوں عدتیں لازم ہوجاتی ہیں۔ جس کا حیض بند ہوچکا ہو۔نیز یہ کہ اگرنکاح کے بعد مباشرت سےپہلے ہی شوہر مرجائے جب بھی عدت وفات گزارنا لازم ہوجاتاہے۔

نوٹ میں نے آیات قرآن کے صرف ترجمے دیے ہیں۔ آپ ان آیات کو کسی تفسیر کی مدد سے خود مطالعہ فرمالیں۔                                           (اپریل ۱۹۸۱ء ج۶۶ ش۴)