یہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عذاب قبر نہیں ہے۔وہ دلیل میں سورۂ یٰسین کی یہ آیت پیش کرتے ہیں مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا۰ڄ ھٰذَا (آیت۵۲) ’’ہماری خواب گاہ سے ہمیں کس نے اٹھایا۔ ‘‘مہربانی کرکے اس کا جواب دیجیے۔
جواب
جولوگ اس آیت کو عذاب قبر سے انکار کے لیےدلیل بناتے ہیں، ان سے پوچھیے کہ اس میں عذاب قبر کا انکار کہاں ہے؟ اس میں یہ تو نہیں کہا گیا ہے کہ عذاب قبر نہیں ہوگا۔ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ وہ لوگ کس طرح اس کو دلیل بناتے ہیں تو اس کا جواب دیاجائے۔ پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے
’’وہ کہیں گےہائے ہماری بدبختی! ہم کو ہماری قبر سے کس نے اٹھاکھڑا کیا۔ ‘‘ (یٰسٓ۵۲)
اس آیت سے پہلے کی آیت کا ترجمہ یہ ہے
’’اور صورپھونکا جائے گا تو وہ دفعتاً قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔‘‘ (یٰسٓ ۵۱) آیت ۵۱میں ’اجداث‘کا لفظ استعمال ہواہے۔ یہ ’جدث‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی قبر ہیں۔ اسی کے لیے آیت ۵۲میں ’مرقد‘ کا لفظ استعمال ہواہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے ’مرقد‘ کا ترجمہ بھی ’قبر‘ کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ ترجمہ اس آیت میں سب سے بہتر ہے۔
عذاب قبر قرآن کریم سے بھی ثابت ہے اور صحیح احادیث سے بھی۔ اور جو چیز قرآن وحدیث دونوں سے ثابت ہو، اس کا انکار گم راہی کے سوا اور کیا ہوگا؟ سورۂ مومن میں ہے
’’دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید ترعذاب میں داخل کرو۔‘‘ (المومن۴۸)
یہ آیت فرعون اوراس کے ساتھیوں کے بارے میں ہے۔ یہ آیت قبر یا برزخ کے عذاب کا صریح ثبوت ہے، اس میں عذاب کے دومرحلوں کاذکر ہے۔ایک کم تر درجے کے عذاب کا جو ہزاروں برس سے فرعون اور آل فرعون کو دیا جارہاہے اور قیامت تک دیا جاتا رہے گا۔ دوسرا شدید ترعذاب جو قیامت کے بعد انھیں دوزخ میں دیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح جو صحیح احادیث میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ قبر یا برزخ میں ہر مجرم کو اور ہر صالح انسان کو اس کا آخری ٹھکانا صبح وشام دکھایا جاتاہے۔
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کاکوئی شخص جب مرجاتا ہے تواس پر اس کا آخری ٹھکانا صبح وشام پیش کیاجاتا ہے۔ وہ جنتی ہو یا جہنمی، اس سے کہاجاتا ہے کہ یہ ہے تیری آخری جائے قرار، جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے دوبارہ اٹھاکر اپنے سامنے حاضر کرے گا۔ (مختصر تفسیر ابن کثیر، ج ۳،بحوالہ بخاری ومسلم ومسند احمد)
عذاب قبر کے بارے میں اتنی کثیر احادیث مروی ہیں کہ معنوی طورپر انھیں متواتر کہا جاسکتا ہے۔ ان میں سے ایک حدیث یہ ہے
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی اور اس نے کہا ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے بارے میں سوال کیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نعم عذاب القبر حق ‘‘ (ہاں، عذاب قبر حق ہے۔ یعنی ثابت ہے اور ایک حقیقت ہے) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ اس کے بعد آپؐ ہرنماز میں عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔‘‘ (مختصرتفسیر ابن کثیر بحوالہ بخاری)
اگرعذاب قبروثواب قبر سے متعلق تمام احادیث جمع کی جائیں اوران کی تشریح کی جائے تو ایک طویل مقالہ یا ایک کتاب تیار ہوجائےگی۔
ان قطعی دلائل کی بناپر اہل السنہ والجماعت اور علماء حق کے درمیان اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سب کے سب عذاب قبر کے قائل ہیں۔ ان میں کوئی اس کا منکر نہیں ہے۔ (ستمبر۱۹۸۵ء،ج۳،ش۳)