علم غیب کی کنجیاں

سورۂ لقمان کی آخری آیت میں یُنَزِّلُ الْغَیْثَ (وہی بارش برساتا ہے) کی موجودگی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ اس آیت میں دوسری جو باتیں مذکور ہیں ان کا تعلم علم اور ادراک سے ہے (عِلْمُ السَّاعَۃِ، یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ، مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ) بارش کا برسانا تو فعل سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ کی صفات بھی علم اور خبر سے تعلق رکھتی ہیں ۔ پھر اس آیت میں ایک عمل کا ذکر اور وہ بھی علم الساعۃ اور علم الارحام کے درمیان، کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ اس الجھن کو دور فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں ۔

ایک فرقہ کو جنتی اور دیگر فرقوں کو جہنمی بتانے والی حدیث صحیح ہے

ایک حدیث میرے مطالعہ میں آئی جس میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے۔ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ان میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا، بقیہ لوگ جہنمی ہوں گے۔‘‘ یہ حدیث پڑھ کر میں بہت تشویش میں مبتلا ہوگیا ہوں ۔ کیا امت کی اکثریت جہنم میں جائے گی اور صرف چند لوگ جنت کے مستحق ہوں گے۔ یہاں ایک مولانا صاحب سے دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ حدیث کا اتنا حصہ تو صحیح ہے جس میں امت کے تہتر فرقوں میں بٹنے کی بات کہی گئی ہے۔ لیکن اس کا اگلا حصہ جس میں صرف ایک فرقے کے جنتی اور دیگر فرقوں کے جہنمی ہونے کی بات کہی گئی ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔ جن روایتوں میں یہ الفاظ ہیں ان کی سندیں ضعیف ہیں ۔
بہ راہِ کرم اس کی وضاحت فرما دیں ۔ کیا مولانا صاحب کی بات صحیح ہے؟

گم راہ فرقے اور سزائے جہنم

ایک سوال کے جواب میں آپ نے ’ایک فرقے کو جنتی اور دیگر فرقوں کو جہنمی بتانے والی حدیث صحیح ہے‘ کے زیرِ عنوان جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ الجھن پیدا کر رہا ہے۔ آپ نے جو احادیث تحریر فرمائی ہیں ان میں صاف صاف لکھا ہے کہ ایک فرقہ ہی جنت میں جائے گا، باقی تمام فرقے جہنم میں جائیں گے، لیکن آگے آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’یہ تمام فرقے دین سے خارج نہیں ہیں ۔‘‘ پوچھا گیا سوال صاف نہیں ہوا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ جن روایتوں میں یہ زائد جملہ ہے ’’صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا، دیگر تمام فرقے جہنمی ہوں گے‘‘ وہ ضعیف ہیں ۔ اسی وجہ سے انھیں امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے اپنی کتابوں میں نقل نہیں کیا ہے۔
یہ بہتر تہتر فرقوں کا چرچا کچھ جماعتوں اور مسلکوں میں عام ہو رہا ہے۔ ہر کوئی اپنی روٹی پر دال کھینچ رہا ہے۔ اس لیے التماس ہے کہ اس حدیث کے سلسلے میں ہونے والے اشکالات دور فرمائیں ۔

ذکرِ رسول ﷺ میں احتیاط

میں ایک مسجد میں امامت اور خطابت کے فرائض انجام دیتا ہوں ۔ ربیع الاوّل کے مہینے میں میں نے ایک موقع پر اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ پرروشنی ڈالی ۔ میں نے بیان کیا کہ مکی دور میں مشرکین نے آپ ؐ کوطرح طرح سے ستایا اور تکلیفیں پہنچائیں ، یہاں تک کہ آپؐ کی جان کے بھی درپے ہوئے۔ میرے پیش نظر سورۃ الانفال کی یہ آیت تھی:
وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ۝۰ۭ وَيَمْكُـرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللہُ۝۰ۭ وَاللہُ خَيْرُ الْمٰكِـرِيْنَ
(الانفال۳۰)
’’ وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ منکرین حق تیرے خلاف تدبیر یں سوچ رہے تھے کہ تجھے قیدکردیں یا قتل کرڈالیں یا جلا وطن کردیں ۔ وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اوراللہ اپنی چال چل رہا تھا اوراللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے‘‘۔
دورانِ تقریر میں نے ایک جملہ یہ بھی کہہ دیا کہ کفارِ مکہ چاہتے تھے کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ نماز کے بعد ایک صاحب نے مجھے ٹوکا کہ ایسے جملے نہ استعمال کیجئے۔ اس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی ہے ، جوکسی مسلمان کے لیے زیبا نہیں ہے۔
بہِ راہِ کرم وضاحت فرمائیں ، کیا اس جملے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کا پہلو نکلتا ہے؟

بے سند اقوال

ادبی کتابوں میں کئی مقولے اورعبارتیں باربار نظرآتی ہیں 
(۱) الشعراء تلامیذ الرحمٰن (شعرا رحمٰن کے شاگرد ہیں ۔)
(۲) یجوزللشعراء ما لایجوزلغیرھم(شعرا کے لیے وہ کچھ جائز ہے جو دوسروں کے لیے جائز نہیں  ہے۔)
(۳) وللہ خزائن تحت عرشہ ومفاتیھاألسنۃ الشعراء(اللہ کے عرش کے نیچے خزانے ہیں اور ان کی کنجیاں شعرا کی زبانیں  ہیں ۔)
بہ راہِ کرم یہ بتانے کی زحمت فرمائیں کہ کیا یہ احادیث کے ٹکڑے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو پوری حدیثیں کیا ہیں اوران کی سند ی حیثیت کیا ہے؟اگر یہ لوگوں کے اقوال ہیں تو ان حضرات کا مبلغ علم کیا ہے؟

حدیث اور توہین صحابہ

بخاری میں حضرت ابن عباسؓ کی روایت کا ایک حصہ یہ ہے:
وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: أَصْحَابِي أَصْحَابِي فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي۔۔۔إِلَى قَوْلِهِ۔۔۔ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ({ FR 1621 })
قیامت کے دن ’’میرے بعض اصحاب‘‘کو بائیں طرف سے گرفتارکیا جائے گا تو میں کہوں گا (انھیں کچھ نہ کہو) یہ تو میرے اصحاب ہیں ،یہ تو میرے اصحاب ہیں ۔ جواب ملے گا کہ تیری وفات کے بعد یہ لوگ الٹی چال چلے۔ اس کے بعد میں حضرت عیسیٰ کی طرح کہوں گا کہ خداوندا! جب تک میں ان میں موجود رہا،ان کے اعمال کا نگران رہا لیکن جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان کا رقیب تھا۔
اس روایت سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کی توہین اور تحقیر مترشح ہوتی ہے۔کیا یہ روایت صحیح ہے؟
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اﷲﷺ کے صحابہ کرام میں سے کچھ تعدادایسے لوگوں کی بھی ہے جنھیں مجرم کی حیثیت سے فرشتے قیامت کے دن بائیں طرف سے گرفتار کریں گے اور یہ کہ انھوں نے دنیاکی زندگی میں سرورِ دوعالمﷺ کی وفات کے بعد آپؐ کے طریقے کو چھوڑ کر غلط روش اختیار کی۔
اصحاب سے مراد جناب کے صحابہؓ ہی ہیں ،اس کے قرائن یہ ہیں :
(۱) لفظ اصحاب خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جنھوں نے آپ کی زندگی میں ایمان کے ساتھ آپ سے تعاون کیا اور آپ کی رفاقت اختیار کی،انھیں اصحاب کا لقب دیا گیا۔
(۲) ایک روایت میں خود حضورﷺ نے تصریح فرمائی ہے کہ(اے جماعت صحابہ!) تم میرے اصحاب ہو اور جو اہل ایمان تمھارے بعد آنے والے ہیں ،ہمارے اخوان ہیں ۔({ FR 1591 })
(۳) حضرات صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کی فضیلت، بزرگی اور منقبت کے سلسلے میں جو روایات آئی ہیں ،ان میں بھی اصحاب کا اطلاق صحابہ کرام پر ہے ۔
(۴) حضور ﷺ کے احتجاج پر فرشتے جواباً عرض کریں گے کہ ’’آپ کے جدا ہوجانے کے بعد ان لوگوں نے آپ کے طریقے کو چھوڑ دیا اور اپنی طرف سے نئے طریقے ایجاد کرلیے۔ حدیث إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ({ FR 1513 }) کے الفاظ اس پر شاہد ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ جب تک آپؐ زندہ رہے تو یہ لوگ آپ کے وفادار ساتھی کی طرح آپؐ کے دین کے پیرو کار رہے، لیکن جوں ہی آپ نے اس عالم ناسوت کو چھوڑا تو انھوں نے پھر دین میں رخنے ڈالنے شروع کیے۔
(۵)پھر آں جناب حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح معذرت فرمائیں گے۔({ FR 1592 })
ان قرآنی الفاظ سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ معاملہ حضورﷺکے اصحاب کا ہے۔

گزارش ہے کہ آپ کی علمی تحریرات سے دوسری بحثوں کے علاوہ صحابہ ذوی النجابہ کے متعلق بھی معیارِ حق ہونے نہ ہونے کے عنوان سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مجھے اس اختلاف کی حقیقت سمجھ میں نہیں آتی اس لیے سخت تشویش ہے۔ فریقین کے لٹریچر پڑھنے سے جو مواد سامنے آیا ہے اس میں ثمرۂ اختلاف کہیں نظر نہیں آتا کیونکہ صحابہ کرامؓ کو مرحوم و مغفور آپ بھی مانتے ہیں اور معصوم دوسرے حضرات بھی نہیں سمجھتے۔ نیز صحابہ کا اجماع اور مجموعی طرزِ عمل آپ کے نزدیک بھی حجت ہے اور ہر ہر صحابی کا ہر ہر فعل مطلقاً ان کے نزدیک بھی قابل تقلید اور حق کا معیار نہیں ۔ باقی ہر صحابی کی مجموعی زندگی میں خیر کا پہلو غالب ہے، اس کے فریقین قائل ہیں ۔ رہی یہ بات کہ حضرات صحابہ کرام کے متعلق تاریخی ریسرچ کرکے آپ نے جو صحیح یا غلط واقعات لکھے ہیں ان کو اس بحث کی بنیاد بنایا جائے تو میرے ناقص خیال میں ان جزوی اور انفرادی واقعات کے وقوع یا عدم وقوع سے ایک خاص درجہ میں صحابہ کے معیارِ حق ہونے یا نہ ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے اس خاردار لمبی بحث سے دامن بچاتے ہوئے میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ آپ بھی ان واقعات سے قطع نظر فرماتے ہوئے خالص علمی رنگ میں خالی الذہن ہوکر معیارِ حق کا مفہوم واضح فرمائیں جس سے آپ کو انکار ہے۔ میں اپنا حاصل مطالعہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں ، اگر آپ اس سے اتفاق فرمائیں تو فبہا، ورنہ اس پر علمی گرفت فرمائیں ۔
ظاہر کہ جو کچھ کتاب و سنت کے اندر مذکور ہے اس کے لیے تو کسی مزید معیار کی ضرورت ہی نہیں بلکہ یہ خود اپنے غیر کے لیے معیار ہیں ۔ مثلاً زُلات صحابہ وغیرہ جن کی تفصیل بے فائدہ ہے۔ ہاں آئندہ آنے والے مسائل جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں نفیاً یا اثباتاً کوئی صراحت موجود نہیں ، ایسے امورِ جزئیہ میں حضرات صحابہ کرام کے اقوال و افعال کو حجت سمجھنا چاہیے کیوں کہ صحبت نبی کے اثر سے ان کے قلوب و اذہان ہماری نسبت صحت و صواب کے زیادہ قریب ہیں ۔ صحابہؓ کو شرفِ صحابیت کے علاوہ نبوت سے قوی اور قریبی تعلق رکھنے کی وجہ سے دینی و دنیاوی مسائل میں ایک قسم کی بالائیت حاصل ہونے کو ہی معیارِ حق ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ غیر صحابی کے لیے لازم ہے کہ اپنے اقوال و افعال کی صحت پر قرآن و حدیث سے کوئی دلیل قائم کرے یا کم از کم کسی صحابی کو ہی اپنی تائید میں پیش کر دے۔ لیکن صحابی کے قول و فعل کے خلاف جب تک نص سے کوئی قوی دلیل قائم نہ ہو تو اس کا صحابی سے ثابت ہونا ہی اس کی صحت کے لیے سند ہے۔ مزید دلیل کی حاجت نہیں ۔ نبوت سے غایت قرب کے سبب یہ اعتماد کا درجہ انھیں مل سکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس امتیاز کی بدولت جو قرب نبوی کے طفیل انھیں حاصل ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم انھیں غیر معصوم سمجھتے ہوئے قرآن و حدیث کا شارح سمجھیں اور جو تعبیر وتو جیہ ہمارے ذہن میں آئے اس کی تصدیق و تصویب کے لیے صحابہ کے در کی دریوزہ گری کی جائے۔ حتیٰ الامکان دین کی تعبیر میں ان سے اختلاف روانہ رکھا جائے۔ اگر آپ اس میں کسی تفصیل کے قائل ہیں تو مع مستدلات تحریر فرمائیں ۔