اگر امام دوسرا خطبہ بھول جائے

عید کی نماز کے وقت گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ نماز کے بعد بوندا باندی شروع ہوگئی۔ امام صاحب نے خطبہ شروع کیا تو نمازیوں میں بارش کی وجہ سے شور و غل ہونے لگا۔ اسی افرا تفری میں امام صاحب نے عید کا ایک ہی خطبہ پڑھا، دوسرا خطبہ پڑھنا وہ بھول گئے۔
بہ راہ کرم مطلع فرمایئے، اگر امام عید کا دوسرا خطبہ پڑھنا بھول جائے تو نماز درست ہوگی یا اس میں کچھ کمی رہ جائے گی؟

اردو زبان میں خطبۂ جمعہ

ہماری بستی میں خطبۂ جمعہ کے معاملے نے انتشار کی صورت اختیار کرلی ہے۔ ہماری مسجد میں کچھ عرصے قبل ایک نئے مولانا صاحب آئے۔ انھوں نے جمعے کا خطبۂ اولیٰ اردو زبان میں دینا شروع کردیا۔ اس میں وہ آسان زبان میں دین کی بنیادی اور اہم باتیں بتاتے اور عوام کو وعظ و تلقین کرتے تھے۔ اس سے عام لوگوں کو بہت فائدہ محسوس ہوا۔ لیکن جلد ہی کچھ لوگوں نے مخالفت شروع کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطبۂ جمعہ اردو زبان میں دینا جائز نہیں ہے۔ بالآخر بستی کے سربر آوردہ لوگوں کی میٹنگ ہوئی، جس میں طے پایا کہ امام صاحب جمعہ کے دونوں خطبے تو عربی زبان ہی میں دیا کریں ، البتہ خطبے سے قبل منبر سے نیچے کھڑے ہوکر اردو زبان میں تقریر کردیا کریں ۔ اس سے عوام کی تعلیم و تربیت کی ضرورت پوری ہوجایا کرے گی۔ لیکن امام صاحب نے اس تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ ا س سے جمعہ کے خطبوں کی تعداد عملاً تین ہوجائے گی۔ نتیجتاً امام صاحب مسجد کی امامت سے علاحدہ کردیے گئے۔ بہ راہ کرم واضح فرمائیں کہ خطبۂ جمعہ کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کیا جمعہ کا خطبۂ اولیٰ اردو زبان میں دینا شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے؟

عید الاضحی میں خوشی کا پہلو

عید الاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کی یادگار ہے، جو نصیحت کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عید میں خوشی کا کون سا پہلو ہے؟

نماز عید میں خواتین کی شرکت

یہاں ہمارے علاقے میں عیدالفطر کی نماز میں خواتین کی شرکت باعث ِ نزاع بن گئی ہے۔ چوں کہ نماز عید کے موقع پر کافی تعداد میں خواتین عیدگاہ میں نماز کے لیے آئی تھیں ، مگر یہاں کے ایک مولانا صاحب نے اس پر سخت تنقید کی۔ معاملہ صرف اتنا ہی نہیں رہا، بلکہ سنا گیا کہ انھوں نے گھر گھر جاکر خواتین کو توبہ کرنے کو کہا، کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ خواتین کا نماز عید میں شریک ہونا جائز نہیں ۔ اس طرح خواتین کو آئندہ عیدگاہ جانے کی اجازت نہ ملنے کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف کچھ علماء نماز عید میں خواتین کی شرکت کو جائز ہی نہیں ، بلکہ مستحسن قرار دیتے ہیں ۔
براہِ مہربانی اس معاملے میں رہ نمائی فرمائیں ، تاکہ آیندہ صحیح فیصلہ کیا جاسکے اور نزاع سے بھی بچا جاسکے۔

نماز جمعہ کے چند مسائل

بہ راہِ کرم درج ذیل سوالات کی وضاحت فرمادیں :
(۱) نماز جمعہ میں کل کتنی رکعتیں ہیں ؟ کہا جاتا ہے کہ اس میں فرض اور سنن و نوافل کل ملا کر چودہ رکعتیں ہیں ؟ یہ محض رواج ہے یا اس کے پیچھے کوئی سند اور دلیل ہے؟ فقہ السنۃ شائع شدہ از مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی میں لکھا ہے کہ جمعہ میں فرض سے پہلے سنتیں اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت نہیں ہیں ، جب کہ فتاویٰ عالم گیری میں فرض سے قبل کی سنتوں کا ذکر ہے۔
(۲) کیا تین ہزار کی آبادی والے گاؤں میں تین مسجدوں میں نماز جمعہ بلا کراہت جائز ہے، جب کہ تینوں مسجدوں کا باہم فاصلہ سو، ڈیڑھ سو میٹر ہی کا ہو، اور ایک ہی مسجد میں اتنی جگہ ہو کہ پوری آبادی اس میں نماز پڑھ سکتی ہو؟
(۳) نماز کے بعد امام صاحب وظیفہ کا اہتمام کرتے ہیں اور مقتدی دعا کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں ، پھر اجتماعی طور پر دعا مانگی جاتی ہے، جب کہ قرآن میں نماز جمعہ ختم ہونے پر زمین میں پھیل کر اللہ کا فضل تلاش کرنے کی ہدایت موجود ہے۔ بہ راہِ کرم اجتماعی دعا کے جواز اور مواقع سے آگاہ فرمائیں ۔

گائوں  میں نمازِ جمعہ کاحکم

ایک بستی کی مجموعی آبادی تقریباً دو ہزار چار سو (۲۴۰۰) افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے بالغ مردوں کی تعداد سات سو(۷۰۰)ہے۔ اس میں تین مسجدیں ہیں اور عید گاہ بھی ہے۔ اس آبادی میں دس بڑی پکی گلیاں ہیں ، جن میں بڑے بڑے ٹریکٹر وغیرہ نکل سکتے ہیں ۔پانچ چھوٹی پکی گلیاں ہیں اور پندرہ کچی بڑی گلیاں ہیں ۔ یہاں ضروریاتِ زندگی کا ہر طرح کا سامان ملتا ہے۔ ہر طرح کی دوکانیں ہیں ۔ گاؤں کی ایک مسجد میں ۱۹۷۶ء تک جمعہ ہوتا تھا، لیکن کچھ لوگوں کے کہنے پر (کہ اس بستی میں جمعہ قائم کرنے کی شرائط نہیں پائی جاتیں ) نماز جمعہ روک دی گئی تھی۔
برائے مہربانی مدلل و مفصل جواب مرحمت فرمائیں کہ کسی بستی میں نماز جمعہ کے قیام کی کیا شرائط ہیں ؟ کیا اتنی بڑی بستی میں کسی ایک مسجد میں بھی نماز جمعہ نہیں پڑھی جا سکتی؟ اگر نماز جمعہ جائز ہے تو کیا ایک ہی مسجد میں یا تینوں مسجدوں میں پڑھی جا سکتی ہے؟

گائوں  میں نمازِ جمعہ

ہمارے گاؤں میں قیام نمازِ جمعہ کے سلسلے میں مسلمانوں میں تذبذب کی کیفیت ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ نماز جمعہ ہونی چاہیے، جب کہ بعض کا خیال ہے کہ چوں کہ شرائط نہیں پائی جاتیں ، اس لیے نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اس بات پر سبھی کا اتفاق ہے کہ اگر معروف علماء کرام و دینی ادارے شریعت کی روشنی میں قیام کی اجازت مرحمت فرماتے ہیں تو ہم بہ خوشی نماز جمعہ کے قیام کے لیے آمادہ ہیں ۔ گاؤں کے حالات ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں ۔ براہ کرم اس سلسلے میں رہ نمائی فرمائیں ۔
گاؤں سے تقریباً چارکلو میٹر کے فاصلہ پر ایک قصبہ ہے ،جس میں جمعہ کی نماز ہوتی ہے۔ ہمارے گاؤں کی آبادی سرکاری اعداد و شمار کے حساب سے چار سو تیس(۴۳۰) افراد پر مشتمل ہے۔ ان میں نصف مسلم اورنصف غیر مسلم ہیں ۔ تقریباً سو (۱۰۰) گھر ہیں ، جن میں بالغ مسلم مردوں کی تعداد سو (۱۰۰)کے قریب ہے۔گاؤں میں دس حافظ قرآن اور دو عالم دین ہیں ۔ ایک سرکاری اسکول ہے، جس میں پانچویں کلاس تک تعلیم ہوتی ہے۔ وہاں چھوٹی بڑی پانچ دکانیں ہیں ۔
گاؤں کے اکثر لوگ نماز جمعہ ادا نہیں کرتے، بلکہ ظہر کی نماز ہی ادا کرتے ہیں ۔ قریب کے چار اور گاؤں میں بھی نماز جمعہ نہیں ہوتی۔ وہاں کے لوگوں میں سے جن کے پاس وسائل موجود ہیں وہ اُن مقامات پر چلے جاتے ہیں جہاں جمعہ کی نمازہوتی ہے۔ بعض ظہر کی نماز ادا کرتے ہیں ۔
یہ بات بھی مد نظر رہے کہ گاؤں میں تقریباً بیس(۲۰) سال قبل جمعہ کا آغاز کیا گیا تھا، لیکن درج بالا وجوہ سے دو تین ہفتہ کے بعدہی موقوف کر دیا گیا۔